اہل بیت نیوز ایجنسی ابناکی رپورٹ کے مطابق،پاکستان کے سابق نمائندہ برائے افغانستان آصف درانی نے خبردار کیا ہے کہ طالبان حکومت اور بھارت کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات سے پاکستان اور طالبان کے روابط متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد افغانستان اور بھارت کے معمول کے تعلقات کی مخالفت نہیں کرتا، تاہم موجودہ حالات میں ان روابط کا اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہونا پاکستان کے لیے قابل قبول نہیں۔
درانی کے مطابق، پاکستان نظریاتی اور سیاسی اختلافات برداشت کر سکتا ہے، لیکن طالبان اور بھارت کے درمیان قریبی تزویراتی تعاون کو وہ ایک “بنیادی سرخ لکیر” سمجھتا ہے۔ انہوں نے طالبان پر زور دیا کہ وہ متوازن علاقائی تعلقات برقرار رکھنے اور افغانستان کو بھارت اور پاکستان کی رقابت کا میدان بننے سے بچائیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ مہینوں میں طالبان اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی کے ساتھ ساتھ کابل اور نئی دہلی کے روابط میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
آپ کا تبصرہ